13 جنوری 2013 - 20:30

سعودی عرب میں آل سعود کی حکومت کےخلاف تبدیلیوں اورآل سعود کےپرتشدداورانسانیت سوزاقدامات کاسلسلہ جاری ہے۔

ابنا: سعودی عرب میں آل سعود کی تشددآمیزپالیسیوں کےخلاف دسیوں ہزارافراد نے پیغمبراسلام (ص) کےیوم وفات کےموقع پر بڑےپیمانےپرسعودی عرب کےمشرقی علاقوں میں مظاہرےکئےاورقیدیوں کی رہائی کامطالبہ کیا۔قطیف اورالعوامیہ کےعلاقوں سےبھی آل سعود کےخلاف مظاہروں کی خبریں ملی ہيں۔لبیک یارسول اللہ کےزیرعنوان ہونےوالےان مظاہروں میں سعودی عرب کےاہم عالم دین شیخ نمرالنمراورعلامہ توفیق العامراوردوسرےقیدیوں کے حق میں نعرےلگائےگئے۔سعودی عرب کی آمراورڈکٹیٹرشاہی حکومت کےخلاف جمعرات کوہونےوالےمظاہروں میں ان عورتوں اوربچوں کی رہائی کامطالبہ کیاگیاجنھیں اس سےقبل ہونےوالےمظاہروں میں گرفتارکیاگیاتھا۔درایں اثناذرائع ابلاغ نےاعلان کیاہےکہ سعودی اساتذہ نےبھی اس ملک کی وزارت تعلیم کےغلط فیصلوں کےخلاف دھرنےکی کال دی ہے۔اس رپورٹ کےمطابق سعودی اساتذہ تعلیمی سال کےنصف دوم کےآغازپرایک ہفتےکےلئےدھرنادیں گے۔سعودی عرب کےسیکورٹی اہلکاردھرنےکےلئےاساتذہ کی کال کاجائزہ لےرہےہيں اوردھرناشروع ہونےسےپہلےہی کسی چارہ کارکی تلاش میں ہيں ۔حکومت مخالف حالات اورقانونی وسیاسی شخصیتوں کی تنقیدوں کےباوجود آل سعود حکومت کےانسان دشمن اقدامات کاسلسلہ جاری ہے۔اس سلسلےمیں سعودی عرب کےامربالمعروف ونہی عن المنکروفود نے مشرقی سعودی عرب کےشہرالجبیل میں ایک جشن کی ایک تقریب سے سو نرسوں کوگرفتارکرلیاہے سعودی عرب کےمفتی اعظم شیخ عبدالعزیزبن عبداللہ آل شیخ نے گذشتہ مہینےہرطرح کی تقریب کوحرام قراردیاتھااورتاکیدکےساتھ اعلان کیاتھاکہ اس ملک کےعوام عیدقربان اورعیدفطرمیں جشن کرسکتےہيں۔مصری محقق وماہرمحمدماہرقابیل نے سعودی بادشاہ کی جانب سےتیس خواتین کومجلس مشاورت کارکن منصوب کئےجانےکی طرف اشارہ کرتےہوئےکہاہےکہ سعودی حکومت کسی طرح کےقانونی انتخابات کےنتیجےمیں تشکیل نہیں پائی ہے چنانچہ اس کی مجلس مشاورت جوخودانتصابی ہے اسےقانونی حیثیت نہيں دلاسکتی ۔محمدماہرقابیل نےتاکیدکےساتھ کہاکہ سعودی عرب کےبادشاہ کی جانب سےتیس خواتین کواس ملک کی پارلیمنٹ کےلئےمنصوب کرنےکامقصدموجودہ بحران کوکنٹرول کرنا ہے لیکن حقیقت یہ ہےکہ یہ حکومت بحران پرقابوپانےیاتبدیلی پیداکرنےکی صلاحیت نہيں رکھتی ۔سعودی بادشاہ کےفرمان کےمطابق سعودی عرب کی پارلیمنٹ کی بیس فیصدسےکم نشستیں جوعورتوں سےمختص ہیں،کسی طرح کے اختیارات کی حامل نہيں ہیں۔

.......

/169